1 جہنم — اس کی حقیقتیں اور مضمرات – حصہ

Posted byUrdu Editor July 1, 2025 Comments:0

(English Version: “Hell – Its Realities and Implications – Part 1” )

جہنم  ایک مقبول موضوع نہیں ہے — یہاں تک کہ عبادت گاہ  میں بھی نہیں۔ تاہم، یہ ایک اہم موضوع ہے کیونکہ کتاب مقدس جہنم کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی موضوع ہمیں آرام دہ یا غیر آرام دہ  بناتا  ہے۔ یہ مشکل سچائیوں کے بارے میں ہے جن کے بارے میں ہمیں مسلسل سوچنے کی ضرورت ہے —  اپنے ابدی فائدے کے لیے۔ے

سو برس پہلے کے ایک دیندارمبلغ جے .سی . رائل نے جہنم کے بارے میں یہ لکھا تھا، وہ  چوکیدار  جو آگ کو دیکھ کر خاموش رہتا ہے، وہ سنگین غفلت کا قصوروار ہوتا ہے۔ جو ڈاکٹر ہمیں  بتا تا ہے کہ ہم مرتے وقت صحت یاب  ہو ر ہے  ہیں، وہ جھوٹا دوست ہے، اور  وہ  پادری جو اپنے خطبوں میں اپنے لوگوں کو جہنم سے دور رکھتا ہے، وہ نہ کوئی وفادار اور نہ ہی مہربان آدمی ہے۔۔

چونکہ میں وفاداراور مہربان [محبت کرنے والا] دونوں بننے کی کوشش کرتا ہوں، اس لیے میں جہنم کی 4 حقیقتوں اور ان حقائق کے نتیجے میں ہونے والے مخصوص اثرات کو بیان کرکے جہنم کے موضوع  پر توجہ  دینا چاہتا  ہوں۔

حقیقت نمبر 1.  جہنم ایک حقیقی جگہ ہے۔

صرف اس لیے کہ کوئی جہنم  پر یقین نہیں رکھتا، جہنم  کا وجود ختم نہیں ہوتا ہے۔ جہنم ایک حقیقی جگہ ہے جو موجود ہے۔ اگر جہنم حقیقی جگہ نہیں ہے، تو کیوں یسوع نہ صرف ہمیں خبردار کرتا ہے — لیکن ہمارے لیے مرنے آئے تاکہ ہم وہاں نہ جائیں؟ متى 10:28 میں، یسوع نے ہمیں خبردار کیا، تم لوگوں سے نہ گھبراؤ کیوں کہ وہ تو صرف جسم کو مار سکتے ہیں لیکن روح کو مار نہیں سکتے۔ بلکہ خدا سے ڈرو جو روح اور جسم کو جہنم میں نیست و نابود کر سکتا ہے۔ اگر جہنم کا  وجود  نہ  ہو تو  یہ  الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اگر ہم جنت میں یقین رکھتے ہیں، تو ہمیں جہنم میں بھی یقین کرنا ہوگا — خدا کی مقدس اور انصاف فطرت گناہ کی سزا چاہتی ہے — یا تو صلیب پر یا  افراد  پر۔

جب ہم مرتے ہیں تو  ہم فوراً 2 میں سے 1 جگہ جاتے ہیں: مومن جنت میں جاتا ہے۔ کافر سب سے پہلے ایک ایسی جگہ جاتا ہے جسے ہیڈیز کہا جاتا ہے [تکلیف کی جگہ] ، اور قیامت کے دن جہنم میں ڈالا جائے گا۔ جس طرح جنت ایک حقیقی جگہ ہے  اسی طرح جہنم بھی ایک حقیقی جگہ ہے۔

حقیقت نمبر 2.  جہنم  ابدی شعوری عذاب کی جگہ ہے۔

ا.  یہ  ایک ابدی جگہ ہے۔  متى 25:46 میں، یسوع نے کہا، پھر برے لوگ وہاں سے نکل جا ئیں گے۔ اور انہیں روزانہ سزا ملتی رہے گی لیکن نیک و راستباز لوگ ہمیشگی کی زندگی پا ئیں گے۔ غور کریں، جنت اور جہنم دونوں ابدی ہیں کیونکہ دونوں جگہوں کو بیان کرنے کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ہم لفظ ہمیشگی کا مطلب ابدی کے لیے نہیں کہہ سکتے جب یہ جنت میں آتا ہے اور جب یہ جہنم میں آتا ہے تو یہ عارضی ہوتا ہے۔

ب. یہ عذاب کی جگہ ہے۔  جہنم کو آگ کی بھٹی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یوحنا، غسل پاک دینے والا،  متى 3:12 میں  جہنم کو نا بجھنے والی آگ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ مرقس 9:43 میں، یسوع نے کہا، اگر تیرا ہاتھ تجھے ہی گناہوں میں پھانستا رہا ہو تو بہتر ہوگا کہ اس کو کاٹ ہی ڈال دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے نہ بجھنے والی آ گ کے جہنم میں جانے سے بہتر یہ ہوگا کہ معذور ہوکر ابدی زندگی ہی کو پائے اور وہ راستہ ایسا ہو گا کہ جہاں کی آ گ ہر گز نہ بجھے گی۔۔

چند آیات کے بعد مرقس 48-9:47 میں، یسوع نے اور کہا، 47 تیری آنکھیں اگر تجھے گناہوں میں ڈال رہی ہوں تو دو نوں آنکھ رکھتے ہوئے دوزخ میں جانے کی بجائے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ہی آنکھ والا ہو کر ہمیشہ کی زندگی کو پا ئے۔ 48 دوزخ میں انسانوں کو کھانے والے کیڑے کبھی مرتے نہیں اور نہ ہی دوزخ کی آ گ کبھی بجھتی ہے۔۔

پولس نے 2 تھسلنیکیوں 9-1:8 میں لکھا، جب یسوع آسمان سے دہکتے ہو ئے شعلوں کے ساتھ ظاہرہوں تو ان لوگوں کو بھی جو خدا کو نہیں جانتے اور ان کو بھی جو ہمارے خدا وند یسوع کی انجیل کی اطا عت نہیں کرتے سزا دے گا۔ انہیں ہمیشہ تباہی کی سزا دی جائے گی اور انہیں خداوند کے ساتھ رہنے کا موقع نہیں ملے گا اور انہیں اس کی شاندار طاقت کے سامنے سے ایک طرف دھکیل دیا جائے گا۔  بائبل کی آخری کتاب ان تمام لوگوں کے آخری انجام کو بیان کرتی ہے جنہوں نے خداوند یسوع کو رد کیا تھا — عذاب کی جگہ : 14 موت اور عالم ارواح کو آ گ کی جھیل میں پھینک دیا گیا یہ آ گ کی جھیل دوسری موت ہے۔ 15 اور اگر کسی شخص کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا تب اس کو آ گ کی جھیل میں پھینک دیا جا ئے گا۔  [مکاشفہ 15-20:14]۔]

یہ تمام آیات واضح طور پر جہنم کو عذاب کی جگہ کے طور پر بیان کرتی ہیں۔

پ.  یہ  ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگوں کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ جہنم ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر کسی کو درد کا احساس ہوتا ہے۔ جہنم میں احساسات ہوں گے۔ تاہم، وہ صرف درد کے احساسات ہوں گے — مسلسل نہ ختم ہونے  والا  درد۔ کسی بھی طرح کی مہلت نہیں۔ درد سے کوئی چھٹی نہیں۔ یسوع نے متى 25:30 میں کہا، پھر اس نوکر کے بارے میں یہ حکم دیا کہ بیکار کے نوکر کو باہر اندھیرے میں دھکیل دو جہاں لوگ تکلیف کا ماتم کرتے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے ہونگے۔ غور کریں کہ کس طرح یسوع جہنم میں مسلسل تکلیف کو بیان کرتا ہے جیسے کہ تکلیف کا ماتم کرتے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے ہونگے۔ اگر یہ کافی نہیں ہے تو، عیسوع اسے اندھیرے کی جگہ بھی کہتے ہیں، جو مکمل ناامیدی کی علامت ہے۔

 یسوع نے امیر آدمی  اور لعزر کے بارے میں بھی کہانی [ایک تمثیل نہیں]  اور یہ بھی  بتایا کہ کس طرح  امیر آدمی عالم ارواح میں  اپنے  مصائب سے  آگاہ  تھا۔ ہم  لوقا 24-16:23  میں امیر آدمی کے ہولناک تجربے کو پڑھتے ہیں: 23 لیکن وہ عالم ارواح میں تکالیف اٹھا تے ہو ئے بہت دور پر لعزر کو ابراہیم کی گود میں پڑا دیکھا۔ 24 وہ پکارا اے میرے باپ ابرا ہیم مجھ پر رحم فرما اور لعزر کو میرے پاس بھیج دے اور گزارش کی کہ وہ اپنی انگلی پانی میں بھگوکر میری زبان کو تر کر دے کیوں کہ میں آگ میں تکلیف اٹھا رہا ہوں! امیر آدمی کو اپنی تکلیف کا واضح طور پر احساس تھا۔

اگرچہ  درد کی مقدار  ہر شخص میں مختلف ہوگی [یعنی جو  زیادہ گناہگار ہیں وہ زیادہ  تکلیف اٹھائیں گے]، لیکن پھر بھی ہر کوئی مسلسل  درد  کا  سامنا کرے گا۔ پیوراتان تبصرہ کرنے والا میتھیو ہنری نے  یہ سنجیدہ  الفاظ لکھے اگر کوئی آدمی میتھوسیلہ کی طرح لمبی ذندگی گذارتا،  اور اپنے تمام  دن  گناہ  پیش کرنے والی اعلیٰ ترین لذتوں میں گزارتا، جس کے بعد آنے والی  اذیت اور مصیبت کا  ایک گھنٹہ، ان لذتوں کےتجربے سے کہیں زیادہ بدتر ہیں۔ اسے دوسرے طریقے سے دیکھیں، آئیے اس بدترین مصائب کا تصور کریں جس کے بارے میں کوئی سوچ سکتا ہے اورابھی زمین پر گزر رہے ہیں۔ اب اس درد کو 1000 سے ضرب دیں، نہیں — 10,0000 سے — نہیں، ایک ملین سے، اس درد کی مقدار بھی اس درد کے برابر نہیں ہوگی جو ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گی!۔

جسمانی  اذیت کے ساتھ ساتھ، ذہنی اذیت بھی ہے کیونکہ جب کوئی شخص جہنم میں ہوتا ہے تو خدا  ذہن کو نہیں نکالتا ہے۔ ایک مصنف نے اس ذہنی  اذیت کو اس طرا بیان کیا ہے جس کا سامنا  ایک شخص کو جہنم میں کرنا  پڑے گا۔

ا    جہنم میں انسان کے دماغ کو نکالنا خدا کی رحمت ہو گی، لیکن  یہ  یقیناً  جہنم کی  اذیت ہے۔ رحم کسی  اور وقت کے لیے تھا، بہت پہلے۔ ایک آدمی کو اپنے آپ کے ساتھ رہنا چاہیے، بناوٹی مہربانی  اور دکھاوے کی خوبصورتی کے وقار کے بغیر۔ اس  کا  دماغ  اس کا سب سے زیادہ  اذیت کا  شکار حصہ ہے، چاہے وہ جسم کے اندر کیسی بھی تکلیف میں مبتلا ہو۔ یقیناً  ان الفاظ کا یہی مطلب ہے، اس کا کیڑا نہیں مرے گا۔

ا    اس کے ذہن کے اندراور باہر رینگنا  یہ خوفناک  آگاہی  ہے کہ وہ  وہی ہے جو وہ ہمیشہ کے لیے ہے  اور وہ  بدل نہیں سکتا اوراس لیے  اسے  دوبارہ کبھی کوئی  امید یا کوئی راحت یا کوئی خوشی یا کوئی پیار نہیں مل سکتا۔ وہ  ہمیشہ نفرت کی خواہش کرے گا، اور وہ پھر کبھی محبت کی خواہش نہیں کر سکتا، حالانکہ  وہ  ایسی خواہش  کی آرزو کرے گا، اور پھر اس کی خواہش کے لیے  اپنے آپ سے نفرت کرے گا کیونکہ اس کی خدا سے نفرت بہت زیادہ ہے۔

کوئی محسوس کر سکتا ہے، کیا کسی کے لیے ہمیشہ کے لیے تکلیف اٹھانا ناانصافی نہیں ہے؟ مسئلہ یہ ہے: جہنم میں بھی، لوگ اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کریں گے کیونکہ توبہ کا وقت موت کے وقت ختم ہو جاتا ہے۔  لہذا، وہ بغاوت میں رہیں گے جو ان کے گناہوں میں اضافہ کرتی ہے.  اور اسی وجہ سے وہ ابدی عذاب کا سامنا کرتے رہیں گے۔

حقیقت نمبر 3.  جہنم  ایک  ایسی جگہ ہے جہاں سراسر بدکار اور یہاں تک کہ مہذب لوگ بھی اکٹھے ہوں گے۔

پولس نے 1 کرنتھیوں 10-6:9 میں لکھا،  کیا تم نہیں جانتے کہ بد کار خدا کی بادشاہت کے وا رث نہ ہوں گے؟ ایسے لوگ خدا کی بادشاہت میں وارث نہ ہو ں گے جو حرامکاری، بتوں کی پرستش، عیاش، زناکار اور لونڈے باز ہیں۔ 10 جو لوگ چور خود غر ض، شرابی، گالیاں دینے والے، دھوکہ باز ہیں۔ پولس نے گنہگاروں کی ایک وسیع قسم کی فہرست دی ہے جو خدا کی سلطنت کے وارث نہیں ہوں گے۔ چور اور غیبت کرنے والے، شرابیوں کے ساتھ بد اخلاقی کرنے والے سب جہنم میں رہیں گے۔ دوسرے لفظوں میں، یہاں تک کہ نام نہاد اخلاقی طور پر اچھے شخص جیسا کہ امیر نوجوان حکمران  [متى 22-19:16] ہٹلر اور سٹالن کے ساتھ ہوگا۔

عیسوع نے خود کہا، جہنم کو جانے والا راستہ آسان اور بہت زیاہ چوڑا ہے۔کئی لوگ اسکے ذریعے دا خل ہوتے ہیں [متی 7:13]۔ جہنم نہ صرف بدکار لوگوں کے لیے جگہ ہوگی بلکہ یہ شیطان  اور اس کے شیاطین کے لیے بھی جگہ ہوگی [متی 25:41]۔ ایک لمحے کے لیے اس کا تصور کریں۔ نہ صرف یہ کہ گناہگار لوگوں کے ساتھ رہنا  کافی برا ہے، بلکہ شیطان  اور اُس کے شیاطین بھی ہمیشہ کے لیے ساتھ رہیں گے۔

حقیقت نمبر 4.  جہنم امید کی جگہ نہیں ہے۔

جہنم میں لوگ صرف مایوسی اور ناامیدی کے جذبات رکھتے ہیں۔  باہر نکلنے کی قطعاً کوئی امید نہیں۔  ہم  لوقا 28-16:24 میں یہ الفاظ پڑھتے ہیں، ا24وہ پکارا اے میرے باپ ابرا ہیم مجھ پر رحم فرما اور لعزر کو میرے پاس بھیج دے اور گزارش کی کہ وہ اپنی انگلی پانی میں بھگوکر میری  زبان کو تر کر دے کیوں کہ میں آگ میں تکلیف اٹھا رہا ہوں! 25 تب ابراہیم نے جواب دیا کہ بیٹے یاد کر تو جب زندہ تھا وہاں پر تجھے ہر قسم کا آرام تھا۔ لیکن لعزر تو بیچارہ مصائب کی زندگی میں تھا۔ اب تو وہ سکھ اور چین سے ہے اور جب کہ تو تکالیف میں گھِرا ہے۔ 26 اس کے علا وہ تیرے اور ہمارے درمیان بڑا گہرا تعلق ہے وہاں پر پہنچ کر تیری مدد کر نا کسی سے بھی ممکن نہیں ہے کسی سے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہاں سے آئے۔ 27 مالدار نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو مہربانی کر کے لعزر کو دنیا میں واقع میرے باپ کے گھر بھیج دے۔ 28 کیونکہ میرے پانچ بھا ئی ہیں۔ لعزر انہیں آگاہ کریگا کہ وہ اس ایذا رسائی اور عذاب کی جگہ پر نہ آئیں۔۔

اس عجلت پر غور کریں جس کے ساتھ امیر آدمی ابراہیم سے التجا کرتا ہے تاکہ اس کے خاندان کو وہاں آنے سے بچایا جائے جہاں وہ تھا۔  کیوں؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک بار جب کوئی شخص اندر داخل ہو جائے تو کوئی فرار نہیں ہوتا۔  ہمیشہ کے لیے عذاب میں۔  نجات کی کوئی امید نہیں! خوشی یا راحت کا ایک منٹ نہیں!  یہ کتنا خوفناک ہونا چاہیے! درحقیقت، یہ اتنا خوفناک ہے کہ شیاطین بھی وہاں جانا نہیں چاہتے۔  اِس لیے اُنہوں نے عیسوع سے کہا کہ وہ اُنہیں پاتال میں جانے کی بجائے خنزیروں میں بھیج دے [ لوقا 31-8:28]!1

تو جہنم کی 4 حقیقتیں: (1)  یہ  ایک حقیقی جگہ ہے۔ (2)  یہ  ابدی شعوری عذاب کی جگہ ہے۔ (3)  یہ  وہ  جگہ ہے جہاں سراسر  بدکار اور مہذب ترین لوگ اکٹھے ہوں گے اور (4) یہ  ایسی جگہ ہے جہاں کوئی امید نہیں ہے۔

اگرچہ جہنم کی کون سی وضاحتیں حقیقی ہیں یا کون سی علامتی ہیں اس کے بارے میں کٹر ہونا مشکل ہے، لیکن یہ حقیقت اب بھی باقی ہے: جہنم — ذہنی اور جسمانی طور پر— خوفناک مصائب کی جگہ ہے!  تو پھر مومن اور کافر دونوں کو ان حقائق کا کیا ردعمل ہونا چاہئے؟ اس کا جواب اس مضمون کے حصہ 2 میں ملتا ہے۔

Category

Leave a Comment